دیوانِ غالبردیف ی

پھر اس انداز سے بہار آئی

۱

پھر اس انداز سے بہار آئیکہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

۲

دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاکاس کو کہتے ہیں عالم آرائی

۳

کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سررو کشِ سطحِ چرخِ مینائی

۴

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملیبن گیا روئے آب پر کائی

۵

سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیےچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی

۶

ہے ہوا میں شراب کی تاثیربادہ نوشی ہے باد پیمائی

۷

کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔشاہِ دین٘دار نے شفا پائی

۱۹۲ / ۳۰۷