دیوانِ غالبردیف ی

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

۱

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

۲

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

۳

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے

۴

رات پی زم زم پہ مے اور صبح دمدھوئے دھبّے جامۂ احرام کے

۵

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے

۶

شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کے

۷

عشق نے غالبؔ نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

۱۹۱ / ۳۰۷