دیوانِ غالبردیف ی
یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یا رب"، مجھے
۱
یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یا رب"، مجھےسُبحۂ زاہد ہوا ہے، خندہ زیرِ لب مجھے
۲
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر، رہنِ سخنتھا طلسمِ قُفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے
۳
یا رب! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!رشک، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
۴
طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!آرزو سے، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
۵
صبح، نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میںتوڑنا ہوتا ہے رنگِ یک نفس، ہر شب مجھے
۶
شومیٔ طالع سے ہوں ذوقِ معاصی میں اسیرنامۂ اعمال ہے، تاریکیٔ کوکب مجھے
۷
درد نا پیدا و بے جا تہمتِ وارستگیپردہ دارِ یاوگی ہے، وسعتِ مشرب مجھے
۸
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مُجھی سے ہو گئےعشق سے آتے تھے مانِع، میرزا صاحب مجھے
۲۱۴ / ۳۰۷