حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے
Editors' notes
آزمائش: اصل نسخوں میں "آزمایش" ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر "آزمائش" لکھا ہے۔ — اعجاز عبید
About this couplet
This is couplet 10 of 10 in “حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۰ / ۱۰