حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر ، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
Editors' notes
ہی: نسخۂ مہر میں "رہے گر دل میں تیر" — جویریہ مسعود مزید: نسخۂ نظامی، نسخۂ حمیدیہ، نسخۂ عرشی اور متعدد دیگر نسخہ ہائے قدیم و جدید میں یہ مصرع اُسی طرح درج ہے جس طرح متن میں چھپا ہے، مگر نسخۂ مہر میں غالباً سہوِ کاتب سے "رہے گر دل میں تیر اچھا" ملتا ہے۔ بعض قدیم نسخوں میں "دل میں ہی" بھی چھپا ہے جو سہوِ کتابت ہے مگر "رہے گر دل میں" کہیں نہیں ملا، نہ یہ قابلِ ترجیح معلوم ہوتا ہے ۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 6 of 10 in “حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۱۰