دیوانِ غالبردیف ی

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سے

۱

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد، شرما جائے ہے، مُجھ سے

۲

خُدایا! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے!کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے

۳

وہ بَد خُو اور میری داستانِ عشق طُولانیعبارت مُختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے، مُجھ سے

۴

اُدھر وہ بد گمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پُوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے

۵

سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی! کیا قیامت ہے!کہ دامانِ خیالِ یار، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سے

۶

تکلف بر طرف، نظارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جائے، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے، مُجھ سے

۷

ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

۸

قیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہم سفر غالبؔ!وہ کافر، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سے

۲۱۶ / ۳۰۷