لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
منہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتابکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
Editors' notes
شعر: اس شعر کا پہلا مصرع یوں ہی ہے۔ دوسرے کے متعلق طباطبائی نے لکھا ہے کہ "غالبؔ نے آنکھیں دکھانا بہ صیغۂ جمع باندھا ہے مگر فصیح وہی ہے کہ آنکھ دکھانا کہیں"۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ اردو کے اکثر فصیح اساتذہ نے آنکھیں دکھانا بھی کہا ہے۔ ان میں میرؔ، آتشؔ، معروفؔ، مصحفیؔ، اسیرؔ، اُنسؔ، ذوقؔ، مومنؔ، ظفرؔ، جرأتؔ، نسیمؔ دہلوی وغیرہم شامل ہیں۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 4 in “لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۴