دیوانِ غالبردیف ی
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
۱
ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی
۲
شرع و آئین پر مدار سہیایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
۳
چال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں ایسے کے جا کرے کوئی
۴
بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سنا کرے کوئی
۵
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۶
نہ سنو اگر برا کہے کوئینہ کہو گر برا کرے کوئی
۷
روک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئی
۸
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مندکس کی حاجت روا کرے کوئی
۹
کیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئی
۱۰
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
۲۲۶ / ۳۰۷