دیوانِ غالبردیف ی

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟

۱

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟غُلامِ ساقیٔ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے

۲

تمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہےرقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے

۳

کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوےکوئی بتاؤ کہ وہ زُلفِ خم بہ خم کیا ہے

۴

لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولودکسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے؟

۵

نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کاخدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟

۶

وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدموگرنہ مُہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے

۷

سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقین ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے

۲۲۷ / ۳۰۷