دیوانِ غالبردیف ی
باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھےچاہوں گر سیرِ چمن، آنکھ دکھاتا ہے مجھے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
ماہِ نو ہوں، کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھےعمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلومہُوں میں وہ سبزہ کہ زہر آب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِ تماشائے شکستِ دل ہےآئینہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاکآسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
شورِ تمثال ہے کس رشکِ چمن کا یا رب!آئینہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
حیرت آئینہ انجامِ جنوں ہوں جوں شمعکس قدر داغِ جگر شعلہ دکھاتا ہے مجھے
میں ہوں اور حیرتِ جاوید، مگر ذوقِ خیالبہ فسونِ نگہِ ناز ستاتا ہے مجھے
حیرتِ فکرِ سخن سازِ سلامت ہے اسدؔدل پسِ زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
۲۲۸ / ۳۰۷