دیوانِ غالبردیف ک
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
۱
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمککیا مزا ہوتا، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
۲
گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دلورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
۳
مجھ کو ارزانی رہے، تجھ کو مبارک ہو جیونالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک
۴
شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آجگِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک
۵
داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی، واہ واہ!یاد کرتا ہے مجھے، دیکھے ہے وہ جس جا نمک
۶
چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہےدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
۷
غیر کی منت نہ کھینچوں گا پَے توفیرِ دردزخم، مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
۸
اس عمل میں عیش کی لذٓت نہیں ملتی اسدؔزورِ نسبت مَے سے رکھتا ہے نصارا کا نمک
۹
یاد ہیں غالبؔ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میںزخم سے گرتا، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک
۸۵ / ۳۰۷