دیوانِ غالبردیف ک

دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک

۱

دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکوضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک

۲

ہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسم و طپاںایک تپش کا جانشین، درد کی یادگار ایک

۳

نقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہیشعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایک

۴

ایک وفا و مہر میں تازگیٔ بساطِ دہرلطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایک

۵

گُل کدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بوریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایک

۶

مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامورعرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نام دار ایک

۷

گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاںمے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک

۸

زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمنکُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک

۹

دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول پر فِداایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک

۱۰

جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہارفرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک

۱۱

لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دورکر کے دل و زبان کو غالبؔ خاک سار ایک

۸۷ / ۳۰۷