دیوانِ غالبردیف ن

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

۱

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

۲

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پُوچھتا ہوں کہ "جاؤں کدھر کو مَیں"

۳

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں

۴

ہے کیا، جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں

۵

لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ "یہ بے ننگ و نام ہے"یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں

۶

چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھپہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں

۷

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں

۸

پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یارجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں

۹

اپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو مَیں

۱۰

غالبؔ خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو مَیں

۱۰۸ / ۳۰۷