دیوانِ غالبردیف ن

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں

۱

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

۲

وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوقمژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں

۳

شاہدِ ہستیٔ مطلق کی کمر ہے عالَملوگ کہتے ہیں کہ "ہے" پر ہمیں‌ منظور نہیں

۴

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکنہم کو تقلیدِ تُنُک ظرفیٔ منصور نہیں

۵

حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہیعشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں

۶

ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہوتُو تغافل میں ‌کسی رنگ سے معذور نہیں

۷

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ "ہم حور نہیں"

۸

پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہےمحوِ نسبت ہیں، تکلّف ہمیں منظور نہیں

۹

صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگوائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

۱۰

ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔمیرے دعوے پہ یہ حجّت ہےکہ مشہور نہیں

۱۰۹ / ۳۰۷