دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں؟
About this couplet
This is couplet 1 of 9 in “دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۹