دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

Editors' notes

غیر: نسخۂ مہر میں "غیر" کی جگہ "کوئی" درج ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: قدیم نسخوں میں یہاں "غیر" ہی چھپا ہے۔ قدیم نسخۂ نظامی میں بھی "غیر" ہے ۔ عرشیؔ، حسرتؔ موہانی اور مالک رام نے بھی متن میں "غیر" ہی رکھا ہے۔ مہر صاحب نے "کوئی" کو ترجیح دی ہے مگر اس طرح پہلے دونوں شعروں میں "کوئی ہمیں" کا ٹکڑا بہ‌تکرار آ جاتا ہے۔ اگر صرف یہی شعر مدِّ نظر ہو تو البتہ "کوئی" پسندیدہ معلوم ہوتا ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 2 of 9 in “⁨دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۲ / ۹