دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟
About this couplet
This is couplet 6 of 9 in “دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۹