دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟
About this couplet
This is couplet 7 of 9 in “دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۹