دیوانِ غالبردیف ن
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں
پُرسِشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں
رات کے وقت مَے پِیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یُوں
"غیر سے رات کیا بنی" یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یُوں
بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں
میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟
مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح"دیکھ کے میری بے خودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں
گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں
جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
۱۲۵ / ۳۰۷