دیوانِ غالبردیف ن

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں

۱

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں

۲

پُرسِشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں

۳

رات کے وقت مَے پِیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یُوں

۴

"غیر سے رات کیا بنی" یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یُوں

۵

بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں

۶

میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟

۷

مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح"دیکھ کے میری بے خودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں

۸

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں

۹

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں

۱۰

جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں

۱۲۵ / ۳۰۷