ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاںخارِ الم سے پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں
Editors' notes
شعر ۳: یہ شعر بھی نسخۂ مہر میں درج نہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 10 of 11 in “ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۰ / ۱۱