دیوانِ غالبقصائد

میکلوڈ صاحب کی خدمت میں

۱

کرتا ہے چرخ روز بہ صد گونہ احترامفرماں روائے کشورِ پنجاب کو سلام

۲

حق گو و حق پرست و حق اندیش و حق شناسنوّاب مستطاب، امیرِ شہ احتشام

۳

جم رتبہ میکلوڈ بہادر کہ وقتِ رزمتُرکِ فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حُسام

۴

جس بزم میں کہ ہو انھیں آئینِ مے کشیواں آسمان شیشہ بنے، آفتاب جام

۵

چاہا تھا میں نے تم کو مہِ چار دہ کہوںدل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیالِ خام

۶

دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کاحضرت کا عزّ و جاہ رہے گا علی الدّوام

۷

سچ ہے تم آفتاب ہو، جس کے فروغ سےدریائے نور ہے فلکِ آبگینہ فام

۸

میری سنو، کہ آج تم اس سر زمیں پرحق کے تفضّلات سے ہو مرجعِ انام

۹

اخبارِ لدھیانہ میں، میری نظر پڑیتحریر ایک، جس سے ہوا بندہ تلخ کام

۱۰

ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگرکاتب کی آستیں ہے مگر تیغِ بے نیام

۱۱

وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھاجب یاد آگئی ہے، کلیجا لیا ہے تھام

۱۲

سب صورتیں بدل گئیں ناگاہ یک قلملمبر رہا نہ نذر، نہ خلعت کا انتظام

۱۳

ستّر برس کی عمر میں یہ داغِ جاں گدازجس نے جلا کے راکھ مجھے کر دیا تمام

۱۴

تھی جنوری مہینے کی تاریخ تیرھویںاستادہ ہو گئے لبِ دریا پہ جب خیام

۱۵

اس بزمِ پُر فروغ میں اس تیرہ بخت کولمبر ملا نشیب میں از روئے اہتمام

۱۶

سمجھا اسے گراب، ہوا پاش پاش دلدربار میں جو مجھ پہ چلی چشمکِ عوام

۱۷

عزت پہ اہلِ نام کی ہستی کی ہے بناءعزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہے نہ نام

۱۸

تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پراس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام

۱۹

آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریبتھا بارگاہِ خاص میں خلقت کا اژدہام

۲۰

اس کشمکش میں آپ کا مدّاحِ درد مندآقائے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام

۲۱

جو واں نہ کہ سکا تھا وہ لکھا حضور کودیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام

۲۲

ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو، کچھ ضرر نہیںسلطانِ بّر و بحر کے در کا ہوں میں غلام

۲۳

وکٹوریہ کا دہر میں جو مداح خوان ہوشاہانِ مصر چاہیے لیں عزت اس سے وام

۲۴

خود ہے تدارک اس کا گورنمنٹ کو ضروربے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام

۲۵

امرِ جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوالبارے قدیم قاعدے کا چاہیے قیام

۲۶

ہے بندہ کو اعادۂ عزت کی آرزوچاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام

۲۷

دستورِ فنِّ شعر یہی ہے قدیم سےیعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام

۲۸

ہے یہ دعا کہ زیرِ نگیں آپ کے رہےاقلیمِ ہند و سند سے تا ملکِ روم و شام

۲۵۵ / ۳۰۷