دیوانِ غالبقصائد

نوّاب یوسف علی خاں

۱

مرحبا سالِ فرّخی آئیںعیدِ شوّال و ماہِ فروردیں

۲

شب و روز افتخارِ لیل و نہارمہ و سال اشرفِ شہور و سِنیں

۳

گرچہ ہے بعد عید کے نو روزلیک، بیش از سہ ہفتہ بعد نہیں

۴

سُو اس اکّیس دن میں ہولی کیجا بجا مجلسیں ہوئیں رنگیں

۵

شہر میں کو بہ کو عبیر و گلالباغ میں سو بہ سو گل و نسریں

۶

شہر گویا نمونۂ گل زارباغ گویا نگار خانۂ چیں

۷

تین تہوار اور ایسے خوبجمع ہرگز ہوئے نہ ہوں گے کہیں

۸

پھر ہوئی ہے اسی مہینے میںمنعقد محفلِ نشاط قریں

۹

محفلِ غسلِ صحّتِ نوّابرونق افزائے مسندِ تمکیں

۱۰

بزم گہ میں، امیرِ شاہ نشاںرزم گہ میں حریفِ شیرِ کمیں

۱۱

پیش گاہِ حضور، شوکت و جاہخیر خواہِ جناب، دولت و دیں

۱۲

جن کے مسند کا آسماں گوشہجن کی خاتم کا آفتاب نگیں

۱۳

جن کے دیوارِ قصر کے نیچےآسماں ہے گدائے سایہ نشیں

۱۴

دہر میں اس طرح کی بزمِ سرورنہ ہوئی ہو کبھی بہ روئے زمیں

۱۵

انجمیں چرخ، گوہر آگیں فرشنور، مے، ماہ، ساغرِ سیمیں

۱۶

راجا اِندَر کا جو اکھاڑا ہےہے وہ بالائے سطحِ چرخِ بریں

۱۷

وہ نظر گاہِ اہلِ وہم و خیالیہ ضیاء بخشِ چشمِ اہلِ یقیں

۱۸

واں کہاں یہ عطاء و بذل و کرم؟کہ جہاں گریہ گر کا نام نہیں

۱۹

ہاں زمیں پر نظر جہاں تک جائےژالہ آسا بچھے ہیں درِّ ثمیں

۲۰

نغمۂ مطربانِ زہرہ نواجلوۂ لولیانِ ماہ جبیں

۲۱

اس اکھاڑے میں جو کہ ہے مظنونیاں وہ دیکھا بہ چشمِ صورت بیں

۲۲

سرورِ مہر فر ہوا جو سواربہ کمالِ تجمل و تزئیں

۲۳

سب نے جانا کہ ہے پری توسناور بالِ پری ہے دامنِ زیں

۲۴

نقشِ سمِّ سمند سے، یکسربن گیا دشت دامنِ گل چیں

۲۵

فوج کی گردِ راہ مشک فشاںرہروؤں کے مشام عطر آگیں

۲۶

بس کہ بخشی ہے فوج کو عزّتفوج کا ہر پیادہ ہے فرزیں

۲۷

موکبِ خاص یوں زمیں پر تھاجس طرح ہے سپہر پر پرویں

۲۸

چھوڑدیتا تھا گور کو بہرامران پر داغ تازہ دے کے وہیں

۲۹

اور داغ آپ کی غلامی کاخاص بہرام کا ہے زیب سریں

۳۰

بندہ پرور ثنا طرازی سےمدّعا عرضِ فنِّ شعر نہیں

۳۱

آپ کی مدح اور میرا منہگر کہوں بھی تو آئے کس کو یقیں

۳۲

اور پھر اب کہ ضعفِ پیری سےہو گیا ہوں نزار و زار و حزیں

۳۳

پیری و نیستی خدا کی پناہدستِ خالی و خاطرِ غمگیں

۳۴

صرف اظہار ہے ارادت کاہے قلم کی جو سجدہ ریز جبیں

۳۵

مدح گستر نہیں دعاگو ہےغالبؔ عاجز نیاز آگیں

۳۶

ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میںتم رہو زندہ جاوداں، آمیں

۲۵۶ / ۳۰۷