دیوانِ غالبقصائد
مدحِ نصرت الملک بہادر
۱
نُصرت الملک بہادُر مجھے بتلا کہ مجھےتجھ سے جو اتنی اِرادت ہے تو کس بات سے ہے؟
۲
گرچہ تُو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرےرونقِ بزم مہ و مہر تری ذات سے ہے
۳
اور میں وہ ہوں کہ، گر جی میں کبھی غور کروںغیر کیا، خود مجھے نفرت میری اوقات سے ہے
۴
خستگی کا ہو بھلا، جس کے سبب سے سرِ دستنسبت اِک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
۵
ہاتھ میں تیرے رہے توسنِ دَولت کی عِناںیہ دُعا شام و سحر قاضیٔ حاجات سے ہے
۶
تُو سکندر ہے، مِرا فخر ہے ملنا تیراگو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
۷
اِس پہ گُزرے نہ گماں رِیو و رِیا کا زِنہارغالبؔ خاک نشیں اہلِ خرابات سے ہے
۲۵۷ / ۳۰۷