دیوانِ غالبقطعات

خطِ منظوم بنام علائی

۱

خوشی تو ہے آنے کی برسات کےپئیں بادۂ ناب اور آم کھائیں

۲

سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہمکہ دِلّی کو چھوڑیں، لوہارو کو جائیں

۳

سِوا اناج کے جو ہے مطلوبِ جاںنہ واں آم پائیں، نہ انگور پائیں

۴

ہوا حکم باورچیوں کو، کہ ہاںابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

۵

وہ کھٹّے کہاں پائیں اِملی کے پھولوہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

۶

فقط گوشت، سو بھیڑ کا ریشہ دارکہو اس کو کیا کھا کے ہم حِظ اُٹھائیں؟

۲۷۷ / ۳۰۷