دیوانِ غالب · قطعاتایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس۱ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفسیوں کہا آتی نہیں اب کیوں صدائے عندلیب؟۲بال و پر دو چار دکھلا کر کہا صیّاد نےیہ نشانی رہ گئی ہے اب بجائے عندلیب۲۸۴ / ۳۰۷