دیوانِ غالبسہرے

ہم نشیں تارے ہیں

۱

ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدیں خاںبزمِ شادی ہے فلک، کاہکشاں ہے سہرا

۲

ان کو لڑیاں نہ کہو، بحر کی موجیں سمجھوہے تو کشتی میں، ولے بحرِ رواں ہے سہرا

۲۶۶ / ۳۰۷