دیوانِ غالبسہرے
چرخ تک دھوم ہے
۱
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہراچاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا
۲
رشک سے لڑتی ہیں آپس میں اُلجھ کر لڑیاںباندھنے کے لیے جب سر پہ اُٹھایا سہرا
۳
جسے کہتے ہیں خوشی، ا س نے بلائیں لے کرکبھی چوما، کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
۴
صاف آتی ہیں نظر آبِ گہر کی لہریںجنبشِ بادِ سحر نے جو ہلایا سہرا
۲۶۷ / ۳۰۷