دیوانِ غالبسہرے
بیانِ مصنّف
منظُور ہے گُزارشِ احوالِ واقعیاپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے
سَو پُشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گریکچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزادہ رَو ہوں اور مِرا مسلک ہے صلحِ کُلہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوںمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
اُستادِ شہ سے ہو مجھے پَرخاش کا خیال؟یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نُما ہے شہنشاہ کا ضمیرسَوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کون اور ریختہ، ہاں اِس سے مدعاجُز انبساطِ خاطرِ حضرت نہیں مجھے
سِہرا لکھا گیا ز رہِ امتثالِ اَمردیکھا کہ چارہ غیرِ اطاعت نہیں مجھے
مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گُسترانہ باتمقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو تو رُو سیاہسودا نہیں، جُنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
قسمت بُری سہی پَہ طبیعت بُری نہیںہے شُکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ، خدا گواہکہتا ہوں سچ کہ جُھوٹ کی عادت نہیں مجھے
۲۶۸ / ۳۰۷