کلامِ حسرتردیف الف

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

۱

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کاکہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا

۲

طلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیاکرم تیرا ہے اک دریا عطا کا

۳

کہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسنہوس تیرے مزاج خود ستا کا

۴

نہیں معلوم کیا اے شاہ خوباںتجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا

۵

بجائے اسم اعظم آپ کا ناموظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا

۶

غضب کا سامنا ہے عاشقوں کودیار حق میں افواج بلا کا

۷

نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہمتقاضا تھا یہی خوئے وفا کا

۸

گنہ گارو چلو عفو الٰہیبہت مشتاق ہے عرض خطا کا

۹

تری محفل میں اہل دل کو جلوہنظر آ جائے گا شان خدا کا

۱۰

اٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھمحبت کے غم راحت فزا کا

۱۱

جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔتمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا

۵ / ۷۹