کلامِ حسرتردیف الف
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
۱
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیاساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا
۲
مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دلپھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا
۳
گستاخ دستیوں کا نہ تھا مجھ میں حوصلہلیکن ہجوم شوق نے مجبور کر دیا
۴
کچھ ایسی ہو گئی ہے تیرے غم میں مبتلاگویا کسی نے جان کو مسحور کر دیا
۵
بیتابیوں سے چھپ نہ سکا ماجرائے دلآخر حضور یار بھی مذکور کر دیا
۶
اہل نظر کو بھی نظر آیا نہ روئے یاریاں تک حجاب نور نے مستور کر دیا
۷
حسرتؔ بہت ہے مرتبۂ عاشقی بلندتجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا
۶ / ۷۹