کلامِ حسرتردیف الف
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
۱
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
۲
اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاںکچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا
۳
ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہارجس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا
۴
شام ہو یا کہ سحر یاد انہیں کی رکھنیدن ہو یا رات ہمیں ذکر انہیں کا کرنا
۵
صوم زاہد کو مبارک رہے عابد کو صلوٰۃعاصیوں کو تری رحمت پہ بھروسا کرنا
۶
عاشقو حسن جفاکار کا شکوہ ہے گناہتم خبردار خبردار نہ ایسا کرنا
۷
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرتؔان سے مل کر بھی نہ اظہار تمنا کرنا
۷ / ۷۹