کلامِ حسرتردیف الف
نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
۱
نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینامحبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا
۲
وہ کیا قدر جانیں دلِ عاشقاں کینہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا
۳
وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میںتمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا
۴
یہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مےگزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا
۵
بہار آئی سب شادماں ہیں مگر ہمیہ دن کیسے کاٹیں گے بے جام و مینا
۸ / ۷۹