کلامِ حسرتردیف الف

پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا

۱

پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیاساقی نے التفات کا دریا بہا دیا

۲

اس حیلہ جو نے وصل کی شب ہم سے روٹھ کرنیرنگ روزگار کا عالم دکھا دیا

۳

اللہ ری بہار کی رنگ آفرینیاںصحن چمن کو تختۂ جنت بنا دیا

۴

اب وہ ہجوم شوق کی سرمستیاں کہاںمایوسئ فراق نے دل ہی بجھا دیا

۵

حسرتؔ یہ وہ غزل ہے جسے سن کے سب کہیںمومنؔ سے اپنے رنگ کو تو نے ملا دیا

۹ / ۷۹