کلامِ حسرتردیف الف
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
۱
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتاآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتا
۲
ہو جاتی تھی تسکین سو اب فرط الم سےاس بات کو روتے ہیں کہ رونا نہیں آتا
۳
تم ہو کہ تمہیں وعدہ وفائی کی نہیں خومیں ہوں کہ مجھے تم سے تقاضا نہیں آتا
۴
ہے پاس یہ کس کی نگہ محو حیا کالب تک جو مرے حرف تمنا نہیں آتا
۵
ان کی نگہ مست کے جلوے ہیں نظر میںبھولے سے بھی ذکر مے و مینا نہیں آتا
۶
شوخی سے وہ معنائے ستم پوچھ رہے ہیںاب لفظ جفا بھی انہیں گویا نہیں آتا
۷
میں درد کی لذت سے رضامند ہوں حسرتؔمجھ کو ستم یار کا شکوا نہیں آتا
۱۰ / ۷۹