کلامِ حسرتردیف الف

ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا

۱

ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیاتو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیا

۲

ایک ہی بار ہوئیں وجہ گرفتارئ دلالتفات ان کی نگاہوں نے دوبارا نہ کیا

۳

محفل یار کی رہ جائے گی آدھی رونقناز کو اس نے اگر انجمن آرا نہ کیا

۴

طعن احباب سنے سرزنش خلق سہیہم نے کیا کیا تری خاطر سے گوارا نہ کیا

۵

جب دیا تم نے رقیبوں کو دیا جام شراببھول کر بھی مری جانب کو اشارا نہ کیا

۶

روبرو چشم تصور کے وہ ہر وقت رہےنہ سہی آنکھ نے گر ان کا نظارا نہ کیا

۷

گر یہی ہے ستم یار تو ہم نے حسرتؔنہ کیا کچھ بھی جو دنیا سے کنارا نہ کیا

۱۱ / ۷۹