کلامِ حسرتردیف الف
یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
۱
یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھاباوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھا
۲
عشق روزافزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھیجلوۂ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی نہ تھا
۳
دید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگیجبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی نہ تھا
۴
کیا ہوئے وہ دن کہ محو آرزو تھے حسن و عشقربط تھا دونوں میں گو ربط شناسائی نہ تھا
۵
تو نے حسرتؔ کی عیاں تہذیب رسم عاشقیاس سے پہلے اعتبار شان رسوائی نہ تھا
۱۲ / ۷۹