کلامِ حسرتردیف الف

یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا

۱

یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوامجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہوا

۲

خودبخود بوئے یار پھیل گئیکوئی منت کش صبا نہ ہوا

۳

میں گرفتار الفت صیاددام سے چھٹ کے بھی رہا نہ ہوا

۴

خبر اس بے خبر کی لا دیتیتجھ سے اتنا بھی اے صبا نہ ہوا

۵

ان سے عرض کرم تو کیا کرتےہم سے خود شکوۂ جفا نہ ہوا

۶

ہو کے بے خود کلام حسرتؔ سےآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا

۱۳ / ۷۹