کلامِ حسرتردیف ب
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
۱
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شباس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب
۲
کی یاس سے ہوس نے لڑائی تمام شبتم نے تو خوب راہ دکھائی تمام شب
۳
پھر بھی تو ختم ہو نہ سکی آرزو کی باتہر چند ہم نے ان کو سنائی تمام شب
۴
بے باک ملتے ہی جو ہوئے ہم تو شرم سےآنکھ اس پری نے پھر نہ ملائی تمام شب
۵
دل خوب جانتا ہے کہ تم کس خیال سےکرتے رہے عدو کی برائی تمام شب
۶
پھر شام ہی سے کیوں وہ چلے تھے چھڑا کے ہاتھدکھتی رہی جو ان کی کلائی تمام شب
۷
حسرتؔ سے کچھ وہ آتے ہی ایسے ہوئے خفاپھر ہو سکی نہ ان سے صفائی تمام شب
۱۴ / ۷۹