کلامِ حسرتردیف ے

آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے

۱

آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلےتم یہ تو خوب کارِ پسندیدہ کر چلے

۲

مایوس دل کو پھر سے وہ شوریدہ کر چلےبیدار سارے فتنہ و خوابیدہ کر چلے

۳

اظہار التفات کے پردے میں اور بھیوہ عقدہ ہائے شوق کو پیچیدہ کر چلے

۴

ہم بے خودوں سے چھپ نہ سکا راز آرزوسب اُن سے عرضِ حال دل و دیدہ کر چلے

۵

تسکینِ اضطراب کو آئے تھے وہ مگربے تابیوں کی روح کو بالیدہ کر چلے

۶

یہ طرفہ ماجرا ہے کہ حسرت سے مل کے وہکچھ جان و دل کو اور بھی شوریدہ کر چلے

۵۳ / ۷۹