کلامِ حسرتردیف ے

اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے

۱

اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کےآزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کے

۲

دل نے چھوڑا ہے نہ چھوڑے ترے ملنے کا خیالبارہا دیکھ لیا ہم نے ملامت کر کے

۳

دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثرکہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے

۴

پستئ حوصلۂ شوق کی اب ہے یہ صلاحبیٹھ رہئے غم ہجراں پہ قناعت کر کے

۵

دل نے پایا ہے محبت کا یہ عالی رتبہآپ کے درد دواکار کی خدمت کر کے

۶

روح نے پائی ہے تکلیف جدائی سے نجاتآپ کی یاد کو سرمایۂ راحت کر کے

۷

چھیڑ سے اب وہ یہ کہتے ہیں کہ سنبھلو حسرتؔصبر و تاب دل بیمار کو غارت کر کے

۵۴ / ۷۹