کلامِ حسرتردیف ی

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

۱

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

۲

جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھل کھیلوپر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شکایت بھی

۳

دشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسراے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی

۴

دل بسکہ ہے دیوانہ اس حسن گلابی کارنگیں ہے اسی رو سے شاید غم فرقت بھی

۵

خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا دے گیاے حسن حیاپرور شوخی بھی شرارت بھی

۶

برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقیبادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

۷

عشاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازکنازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی

۸

رکھتے ہیں مرے دل پر کیوں تہمت بیتابییاں نالۂ مضطر کی جب مجھ میں ہو قوت بھی

۹

اے شوق کی بیباکی وہ کیا تیری خواہش تھیجس پر انہیں غصہ ہے انکار بھی حیرت بھی

۱۰

ہر چند ہے دل شیدا حریت کامل کامنظور دعا لیکن ہے قید محبت بھی

۱۱

ہیں شادؔ و صفیؔ شاعر یا شوقؔ و وفاؔ حسرتؔپھر ضامنؔ و محشرؔ ہیں اقبالؔ بھی وحشتؔ بھی

۵۲ / ۷۹