کلامِ حسرتردیف ے
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے
دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے
تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیںشوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے
سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیںبستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے
آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبوردل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے
کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یارایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے
حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسےیہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے
تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نےداغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے
کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کونام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے
نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاقدل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے
اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔتو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے
۵۵ / ۷۹