کلامِ حسرتردیف ے

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے

۱

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہےکس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے

۲

ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیںان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے

۳

میں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاقدل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے

۴

شاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میںاب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے

۵

ظاہر ہے بے قرارئ پیہم سے حال دلبے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے

۶

پنہاں حجاب ناز میں ہے صورت جمالپیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے

۷

اے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگحسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے

۵۶ / ۷۹