کلامِ حسرتردیف ے

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے

۱

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہےوہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے

۲

جنون محبت کا دیوانہ ہوں میںمرے سر میں سودائے حکمت نہیں ہے

۳

ترے غم کی دنیا میں اے جان عالمکوئی روح محروم راحت نہیں ہے

۴

مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کروہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے

۵

جھکی ہے ترے بار عرفاں سے گردنہمیں سر اٹھانے کی فرصت نہیں ہے

۶

یہ ہے ان کے اک روئے رنگیں کا پرتوبہار طلسم لطافت نہیں ہے

۷

ترے سرفروشوں میں ہے کون ایساجسے دل سے شوق شہادت نہیں ہے

۸

تغافل کا شکوہ کروں ان سے کیونکروہ کہہ دیں گے تو بے مروت نہیں ہے

۹

وہ کہتے ہیں شوخی سے ہم دل ربا ہیںہمیں دل نوازی کی عادت نہیں ہے

۱۰

شہیدان غم ہیں سبک روح کیا کیاکہ اس دل پہ بار ندامت نہیں ہے

۱۱

نمونہ ہے تکمیل حسن سخن کاگہر بارئ طبع حسرتؔ نہیں ہے

۵۷ / ۷۹