کلامِ حسرتردیف ے
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیےبندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
میرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفاتبلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے
خاطر محروم کو کر دیجئے محو المدرپئے ایذائے جان مبتلا ہو جائیے
راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستمہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے
گر نگاہ شوق کو محو تماشا دیکھیےقہر کی نظروں سے مصروف سزا ہو جائیے
میری تحریر ندامت کا نہ دیجے کچھ جوابدیکھ لیجے اور تغافل آشنا ہو جائیے
مجھ سے تنہائی میں گر ملیے تو دیجے گالیاںاور بزم غیر میں جان حیا ہو جائیے
ہاں یہی میری وفائے بے اثر کی ہے سزاآپ کچھ اس سے بھی بڑھ کر پر جفا ہو جائیے
جی میں آتا ہے کہ اس شوخ تغافل کیش سےاب نہ ملیے پھر کبھی اور بے وفا ہو جائیے
کاوش درد جگر کی لذتوں کو بھول کرمائل آرام و مشتاق شفا ہو جائیے
ایک بھی ارماں نہ رہ جائے دل مایوس میںیعنی آخر بے نیاز مدعا ہو جائیے
بھول کر بھی اس ستم پرور کی پھر آئے نہ یاداس قدر بیگانۂ عہد وفا ہو جائیے
ہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگراس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے
چاہتا ہے مجھ کو تو بھولے نہ بھولوں میں تجھےتیرے اس طرز تغافل کے فدا ہو جائیے
کشمکش ہائے الم سے اب یہ حسرتؔ جی میں ہےچھٹ کے ان جھگڑوں سے مہمان قضا ہو جائیے
۵۸ / ۷۹