کلامِ حسرتردیف ے

جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے

۱

جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائےعجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے

۲

شراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیزاگر یہ باعث کیف دوام ہو جائے

۳

رہین یاس رہیں اہل آرزو کب تککبھی تو آپ کا دربار عام ہو جائے

۴

جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظورتو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

۵

وہ دور ہی سے ہمیں دیکھ لیں یہی ہے بہتمگر قبول ہمارا سلام ہو جائے

۶

اگر وہ حسن دل آرا کبھی ہو جلوہ فروشفروغ نور میں گم ظرف بام ہو جائے

۷

سنا ہے برسر بخشش ہے آج پیر مغاںہمیں بھی کاش عطا کوئی جام ہو جائے

۸

ترے کرم پہ ہے موقوف کامرانی شوقیہ ناتمام الٰہی تمام ہو جائے

۹

ستم کے بعد کرم ہے جفا کے بعد عطاہمیں ہے بس جو یہی التزام ہو جائے

۱۰

عطا ہو سوز وہ یا رب جنون حسرتؔ کوکہ جس سے پختہ یہ سودائے خام ہو جائے

۵۹ / ۷۹