کلامِ حسرتردیف ے
رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
۱
رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہےحُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۲
دل پہ رہا مدتوں غلبۂ یاس و ہراسقبضۂ خرم و حجاب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۳
تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریبضبط کی، لوگوں میں تاب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۴
پردۂ اصلاح میں کوششِ تخریب کاخلقِ خدا پر عذاب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۵
نام سے قانون کے ، ہوتے ہیں کیا کیا ستمجبر، بہ زیرِ انقلاب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۶
دولتِ ہندوستان قبضۂ اغیار میںبے عدد و بے حساب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۷
ہے تو کچھ اُکھڑا ہوا بزمِ حریفاں کا رنگاب یہ شراب و کباب، دیکھئیے ، کب تک رہے
۸
حسرتِ آزاد پر جورِ غلامانِ وقتاز رہِ بُغض و عناد، دیکھئیے ، کب تک رہے
۶۰ / ۷۹