کلامِ حسرتردیف ے

روش حسن مراعات چلی جاتی ہے

۱

روش حسن مراعات چلی جاتی ہےہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے

۲

اس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تکہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے

۳

مل ہی جاتے ہیں پشیمانئ غم کے اسبابشوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے

۴

ہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکنکوشش پرسش حالات چلی جاتی ہے

۵

دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سےرسم پابندئ اوقات چلی جاتی ہے

۶

اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتاسعئ تاویل خیالات چلی جاتی ہے

۷

نگہ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیںشہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے

۸

حیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔوصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے

۶۱ / ۷۹