کلامِ حسرتردیف ے
ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے
۱
ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہےمحبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے
۲
بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میریتری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے
۳
جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامیامید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے
۴
مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سےکہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے
۵
تری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلیخوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے
۶
وقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نےکہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے
۷
بدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔدیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے
۶۲ / ۷۹