کلامِ حسرتردیف ے
عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے
۱
عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھےعشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھے
۲
رنج دے گی باغ رضواں کی تن آسانی مجھےیاد آئے گا ترا لطف ستم رانی مجھے
۳
میری جانب ہے مخاطب خاص کر وہ چشم نازاب تو کرنی ہی پڑے گی دل کی قربانی مجھے
۴
دیکھ لے اب کہیں آ کر جو وہ غفلت شعارکس قدر ہو جائے مر جانے میں آسانی مجھے
۵
بے نقاب آنے کو ہیں مقتل میں وہ بے شک مگردیکھنے کاہے کو دے گی میری حیرانی مجھے
۶
سینکڑوں آزادیاں اس قید پر حسرتؔ نثارجس کے باعث کہتے ہیں سب ان کا زندانی مجھے
۶۳ / ۷۹